عراقمشرق وسطی

امریکی فوجیوں کو شام سے عراق منتقل کرنے کے اقدام پر عراقی حکام کی برہمی

عراقی وزیراعظم عادل عبدالمہدی کی صدارت میں عراق کی قومی سلامتی کونسل نے ایک ہنگامی اجلاس تشکیل دے کر شام سے امریکی فوج نکالنے کے ٹرمپ کے فیصلے اور امریکی فوجیوں کی شام سے عراق منتقلی کے بعد کی صورت حال کا جائزہ لیا- اس درمیان عراقی حکومت نے امریکی فوجی ساز و سامان اور فوجیوں کی شام سے عراق منتقلی کو عراق کی ارضی سالمیت اور اقتدار اعلی کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

عراقی وزیراعظم عادل عبدالمہدی کی صدارت میں نیشنل سیکورٹی کونسل کے اجلاس میں شام سے امریکی فوج کو نکالنے کے بعد کی صورتحال اور ہر طرح کے حالات کا مقابلہ کرنےکے طریقوں کا جائزہ لیا گیا-

عراقی وزیراعظم نے اس اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عراقی حکومت نے ملک کی سلامتی کو یقینی بنانے اور امریکا کے اس فیصلے کے ممکنہ نتائج کا مقابلہ کرنے کے لئے خود کو تیار کرلیا ہے-

انہوں نے زور دے کرکہا کہ عراقی فورسز کو پہلے سے زیادہ تقویت کرکے شام کی سرحد سے عراق کے اندر دہشت گردوں کی ہر طرح کی کارروائی کا بھرپور جواب دیں گے-

شام سے امریکی فوج کے نکلنے کے اچانک فیصلے کے بعد امریکا اور داعش کے ممکنہ منصوبوں اور عراق پر پڑنے والے ان کے اثرات کے بارے میں سیاسی حلقوں میں الگ الگ باتیں کی جا رہی ہیں-

عراقی پارلیمنٹ میں دفاع اور سیکورٹی سے متعلق کمیشن نے بھی شام سے امریکی فوجیوں کو عراقی کردستان میں منتقل کرنے کے واشنگٹن کے اقدام کو ایک نیا غاصبانہ اقدام اور عراق کے اقتدار اعلی کی خلاف ورزی قرار دیا-

عراقی پارلیمنٹ میں دفاع اور سیکورٹی سے متعلق کمیشن کے رکن عباس الاسماعیلی نے عراقی حکومت کے علم میں لائے بغیر امریکی فوجیوں کو شام سے عراق منتقل اور انہیں اربیل فوجی چھاؤنی میں تعینات کرنے کے اقدام پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کا یہ قدم عراق پر غاصبانہ قبضے اور عراق کے اقتدار اعلی کے منافی ہے-

بیشتر عراقی حکام نے بھی عراق میں امریکی فوجیوں کے دوبارہ داخل ہونے کے منصوبے کی مخالفت کی ہے – اس سے پہلے بھی عراقی پارلیمنٹ کے قومی سلامتی کے کمیشن نے عراقی حکومت کی اجازت اور اس سے ہم آہنگی کئے بغیر امریکی فوجیوں کو شام سے عراقی کردستان منتقل کئے جانے کے بارے میں موصولہ رپورٹوں پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ، عراق کے ساتھ اسٹریٹیجک سمجھوتے کو شام سے امریکی فوجیوں کو عراق منتقل کئے جانے کے سلسلے میں استعمال کرنے کا حق نہیں رکھتا۔

عراق کی حزب اللہ نے بھی ایک بیان میں شام سے امریکی فوجیوں کے انخلا کو علاقے میں داعش دہشت گرد گروہ کو مضبوط بنانے کے لئے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی مدد سے متعلق امریکی کوشش قرار دیا۔

ترک پریس ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی فوجی ساز و سامان کے حامل تقریبا سو ٹرک شام سے سیمالکا سرحدی گذرگاہ سے ہوتے ہوئے عراق کے لئے روانہ ہو گئے ہیں۔

اس سے قبل امریکی صدر ٹرمپ نے شام کا قانونی نظام حکومت تبدیل کرنے میں اپنی سات برسوں کی ناتوانی کے بعد انیس دسمبر کو اعلان کیا ہے کہ شام سے امریکی فوجی عنقریب روانہ ہو جائیں گے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button