ایرانمشرق وسطی

ایٹمی معاہدے کی بقا ایران کے مفادات کی تکمیل پر منحصر ہے : نائب صدر جہانگیری

ایران کے نائب صدر اسحاق جہانگیری نے کہا ہے کہ ایٹمی معاہدہ تمام فریقوں کی جانب سے متوازن اقدامات اور ایران کے اقتصادی مفادات کے تحفظ کی صورت میں باقی رہ سکتا ہے۔

ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند میں شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے اعظم کے اٹھارہویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے نائـب صدر اسحاق جہانگیری کا کہنا تھا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے ایٹمی معاہدے سے امریکہ کی علیحدگی اور معاہدے کے دیگر فریقوں کے ساتھ مسلسل مذاکرات کے ایک سال کے بعد اس معاہدے پر عملدرآمد روکنے کے عمل کا آغاز کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر دوسرے فریق اپنی ذمہ داریوں کو نبھائیں تو ایران بھی دوبارہ ایٹمی معاہدے کے تحت اپنے تمام وعدوں پر دوبارہ عمل شروع کردے گا۔انہوں نے کہا کہ ظاہر سی بات ہے کہ تمام فریقوں کی جانب سے متوازن عملدرآمد اور ایران کو معاشی فوائد فراہم کیے بغیر، ایٹمی معاہدے کو باقی رکھنا ممکن نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ بڑے افسوس کی بات یہ ہے کہ امریکی حکومت کی دھمکی آمیز پالیسیوں سے متاثرہ بعض آزاد ممالک انسداد دہشت گردی کی پالیسیوں میں دوہرے معیار کا شکار ہیں.انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام پر امریکہ کی جانب سے ظالمانہ اور یکطرفہ پابندیوں کے عائد کرنے سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ امریکہ نے معاشی دہشتگردی کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کی سنگین خلاف ورزی کی ہے اور اس لئے عالمی برادری اس کی ذمہ دار ہے۔انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام کے خلاف امریکہ کے یکطرفہ اقدامات اور ظالمانہ پالیسیاں اقتصادی دہشت گردی کی کھلی مثال نیز عالمی ضابطوں اور اقوام متحدہ کے منشور کے منافی ہیں۔ایران کے نائب صدر نے یہ بات زور دے کر کہی کہ دنیا کو امریکہ کے یکطرفہ اقدامات کے منفی اثرات سے بچانے کے لیے تمام ملکوں کو عالمی نظام کو پائیدار اور امن و سلامتی کو برقرار رکھنے کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا چاہیں۔انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے تسلیم شدہ بین الاقوامی قوانین کے تحت آبنائے ہرمز میں آزادانہ جہاز رانی کا تحفظ کیا ہے اور آئندہ بھی کرتا رہے گا۔اسحاق جہانگیری نے کہا کہ ایران آبی حدود کی حفاظت کے لیے کسی بھی ضروری اقدام کو اپنا حق سمجھتا ہے اور کسی بھی بیرونی طاقت کو اس میں مداخلت کی اجازت نہیں دے گا۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں صدر ایران کی جانب سے پیش کردہ منصوبہ ہرمز امن منصوبہ اجتماعی تعاون، پائیدار سلامتی،توانائی کے تبادلے، تجارتی تعلقات اور شپنگ کے لیے ایک سنہری موقع ہے۔قابل ذکر ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم ایک بین الحکومتی ادارہ ہے جس کا قیام جون دوہزا ایک میں چین کے ساحلی شہر شنگھائی میں عمل آیا تھا۔ چین، قزاقستان، کرغیزستان، روس، تاجکستان اور ازبکستان اس کے بانی ممالک ہیں۔ہندوستان اور پاکستان نے سن دوہزار سولہ کو تاشقند میں ہونے والے سربراہی اجلاس میں شنگھائی تعاون تنظیم کی رکنیت کے معاہدے پر دستخط کیے تھے اور سترہویں سربراہی اجلاس میں دونوں ملکوں کو مستقل رکنیت دی گئی تھی۔اسلامی جمہوریہ ایران، افغانستان، منگولیا اور بیلاروس شنگھائی تنظیم کے مبصر ممالک ہیں۔شنگھائی تعاون تنظیم نے خطے میں تجارتی اور اقتصادی تعاون کے فروغ کے حوالے سے قابل توجہ مواقع فراہم کردیئے ہیں جن سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔اس تناظر میں اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب صدر کی تاشقند اجلاس میں شرکت تہران اور شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ملکوں کے درمیان متعلقہ شعبوں میں تعاون کا بہترین موقع فراہم کرسکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button