genel

سوڈان میں عوامی مزاحمت کے سامنےفوج گھٹنے ٹیکنے پر مجبور

سوڈان میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مشترکہ عبوری حکومت کے قیام پر اتفاق کرلیا گیا۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق اپوزیشن جماعت نے مظاہروں کو ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے فوجی حکومت سے بیزار عوام کو عبوری حکومت کے قیام کا مژدہ سنایا ہے۔ فریقین کے درمیان 3 برس کے لیے انتقال اقتدار کے فارمولے پر اتفاق ہوگیا ہے۔

سوڈان کی فوج اور اپوزیشن کی شراکتِ اقتدار پر مشتمل ایک عبوری حکومت کے قیام کے فارمولے میں طے پایا ہے کہ مرکزی اپوزیشن ’ڈیکلیئریشن آف فریڈم اینڈ چینج فورسز‘ اور فوج باری باری اعلیٰ سطح کونسل کی سربراہی کریں گے جس کے بعد انتخابات کرائے جائیں گے۔

فریقین کے درمیان مظاہروں کے دوران پُر تشدد واقعات کی تحقیقات اور ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا دلوانے کے لیے بھی اتفاق ہوا ہے جس کے لیے اعلیٰ عدالت کے ججز پر مشتمل ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی بھی تشکیل دی جائے گی۔

واضح رہے کہ رواں برس اپریل میں صدر عمر البشیر کو اقتدار سے علیحدہ ہونے کے لیے مجبور کردیا گیا تھا جس کے بعد ملکی امور کی کمان بھی فوج نے سنبھال لی تھی تاہم صدر کے حامیوں نے آمر حکومت کو مسترد کرتے ہوئے آرمی ہیڈ آفس کا گھیراؤ جاری رکھا، ملک گیر مظاہروں میں 40 سے زائد ہلاکتیں بھی ہوئی تھیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button