افریقہ

عمرالبشیر گھر میں نظر بند کئی اعلی اور سرکاری حکام گرفتار

سوڈان میں فوج نے 30 سال سے برسراقتدار صدر عمر البشیر کا تختہ الٹ کر انھیں گھر میں نظر بند کردیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق فوج نے ملکی امور چلانے کے لیے عمرالبشیر کے نائب اور وزیر دفاع جنرل عوض بن عوف کی سربراہی میں عبوری کونسل تشکیل دے دی ہے۔ ملک کے کئی موجودہ اور سابق سرکاری حکام کو گرفتار کر لیا گیا ہے جن میں سابق وزیر دفاع عبد الرحیم محمد حسین، نیشنل کانگریس پارٹی کے نامزد سربراہ احمد ہارون اور عمر البشیر کے سابق نائب علی عثمان محمد اور ذاتی محافظین بھی شامل ہیں۔

سوڈان میں کئی ہفتوں سے صدر عمر البشیر کے خلاف احتجاج جاری تھا۔ صدر نے فوج کو مظاہرین کو منتشر کرنے کا حکم دیا تھا تاہم فوج نے یہ حکم تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملک کے آئین اور انسانی حقوق کے منشور کے تحت عوام کو پر امن مظاہروں کا حق حاصل ہے۔ تاہم حالات خراب ہونے کے بعد کل فوج نے صدر عمر البشیر کا تختہ الٹتے ہوئے ان سے استعفی لے کر انہیں گھر میں نظر بند کردیا ۔

عمر بشیر کا پورا نام عمر حسن احمد البشیر ہے جو 1989 میں سوڈانی فوج کے کرنل تھے اور وزیر اعظم صادق المہدی کی جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد ملک کے سیاہ و سفید کے مالک بن گئے تھے۔ بین الاقوامی عدالت جرائم میں عمر بشیر پر بڑے پیمانے پر قتل، عصمت دری اور شہریوں کی املاک لوٹنے کا مقدمہ بھی چلا تھا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button