فلسطینمشرق وسطی

فلسطینیوں کے گھروں کی مسماری کی مذمت

فلسطین کی خودمختار انتظامیہ کی وزارت خارجہ نے مقبوضہ بیت المقدس کے علاقے صور باہر میں فلسطینیوں کے گھروں اور عمارتوں کو مسمار کئے جانے کی مذمت کی ہے۔

فلسطین کی خودمختار انتظامیہ کی وزارت خارجہ نے پیر کے روز تاکید کے ساتھ کہا ہے کہ غاصب صیہونی حکومت کے جارحانہ اقدامات پر عالمی برادری کی خاموشی سے صیہونی حکومت کو جرائم کا اور زیادہ ارتکاب کئے جانے کی شہ ملے گی۔

فلسطین کی خودمختار انتظامیہ کی وزارت خارجہ نے عالمی برادری اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صیہونی حکام پر دباؤ ڈالیں تاکہ یہ غاصب حکومت جرائم کے ارتکاب سے باز آجائے۔

غاصب صیہونی حکومت کی فوج نے ظلم و بربریت کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے مقبوضہ بیت المقدس کے جنوب مشرق میں واقع وادی الحمص میں فلسطینیوں کو ان کے گھروں اور مکانات سے باہر نکال کر ان کے گھروں اور مکانات کو مسمار کر دیا۔

واضح رہے کہ صورباہر کے علاقہ میں فلسطینیوں کے سو سے زائد گھروں کو منہدم کیا جا رہا ہے، بلڈوزر اور سیکڑوں فوجی ظالمانہ کارروائی میں مصروف ہیں۔ فلسطینیوں کے احتجاج اور بین الاقوامی تنقید کے باوجود گاؤں صور باہر میں ایک سو گھروں کو مسمار کیا جارہا ہے۔ سیکڑوں فوجیوں کے ہمراہ اسرائیلی حکومت نے بلڈوزر بھیجے جنہوں نے فلسطینیوں کو درندگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے گھروں سے نکلنے کا موقع بھی نہیں دیا اور بلڈوزر گھروں پر چڑھا دیئے، مظلوم فلسطینی اپنی آنکھوں کے سامنے گھروں کو ملبے کا ڈھیر بنتا دیکھتے رہے اور سوائے آنسو بہانے اور احتجاج کے سوا کچھ نہ کر سکے۔

یہ ایسے میں ہے کہ صیہونیوں کی جاری بربریت اور فلسطینیوں پر زندگی تنگ کرنے کے واقعات میں اقوام تحدہ سمیت تمام عالمی ادارے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہیں۔

غاصب صیہونی حکومت فلسطینیوں کے گھروں اور مکانات نیز عمارتوں کو تباہ اور فلسطینی علاقوں میں صیہونی بستیاں تعمیر کر کے فلسطینیوں کے ان علاقوں کا جغرافیائی نقشہ تبدیل اور انھیں صیہونی رنگ دے کر فلسطینیوں کے ان علاقوں پر اپنے تسلط کو مضبوط و مستحکم بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔

جبکہ صیہونی حکومت کی نام نہاد عدالت نے وادی الحمص کے فلسطینی شہریوں کی اپیل کو بھی مسترد کر دیا ہے۔

صیہونی آبادکاری کی مخالف کمیٹی کے سربراہ ولید عساف نے فلسطینیوں کے گھروں اور عمارتوں کو تباہ کئے جانے کے اقدام کو بڑے جنگی جرم سے تعبیر کرتے ہوئے کہا ہے کہ سن انیس سو سڑسٹھ سے اب تک اس طرح کے گھناؤنے مجرمانہ اقدام کا کوئی ریکارڈ نہیں ملتا۔

دریں اثنا صیہونی فوجیوں نے العیساویہ کے علاقے پر چڑھائی کردی جہاں فلسطینی نوجوانوں نے شدید استقامت و مزاحمت کا مظاہرہ کیا اور صیہونی فوجیوں کے ساتھ ان کی جھڑپیں ہوئیں۔

جھڑپوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر بھی جاری کی گئی ہیں۔ صیہونی ذرائع ابلاغ نے اعلان کیا ہے کہ فلسطینیوں اور اسرائیلی فوجیوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں ایک اسرائیلی فوجی زخمی ہوا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ صیہونی فوجی، اپنے جارحانہ اور تسلط پسندانہ عزائم کو عملی جامہ پہنانے کے لئے آئے دن فلسطین کے مختلف علاقوں کو وحشیانہ جارحیت کا نشانہ بناتے رہتے ہیں اور جھوٹے، غلط اور بے بنیاد الزامات کے تحت فلسطینیوں کو حراست میں لے کر بلا سبب انھیں جیل میں قید کر دیتے ہیں۔ جیساکہ اس وقت بھی صیہونی حکومت کی جیلوں میں پانچ ہزار سات سو فلسطینی قید ہیں جن میں ڈھائی سو بچے اور سینتالیس عورتیں شامل ہیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button