فلسطینمشرق وسطی

فلسطینی قیدیوں کی بھوک ہڑتال

فلسطین پیپلز موومنٹ کی ہائی کمان نے اعلان کیا ہے کہ بھوک ہڑتال کرنے والے فلسطینی قیدیوں کی تعداد میں اضافے کے بعد فلسطینی قیدیوں کی بھوک ہڑتال شدت اختیار کر گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق فلسطین پیپلز موومنٹ کی ہائی کمان نے ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ فلسطینی قیدی، اسرائیل کی جیلوں کی ابتر صورت حال اور جیل میں ان کے ساتھ جاری ناروا سلوک اور ایذا رسانی کے خلاف احتجاج کے طور پر کئی روز سے بھوک ہڑتال پر ہیں جبکہ بھوک ہڑتال کرنے والے قیدیوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوا ہے اور اٹھارہ دیگر فلسطینی قیدی، بھوک ہڑتال کرنے والوں میں شامل ہو گئے ہیں۔
اسرائیل کی جیلوں میں اس وقت بھی تقریبا چھے ہزار فلسطینی قیدی موجود ہیں جن میں باسٹھ عورتیں بھی شامل ہیں اور تین سو افراد ایسے ہیں کہ جن کی قانونی عمر بھی مکمل نہیں ہوئی ہے۔
یہ ایسی حالت میں ہے کہ غاصب صیہونی حکومت کی جیلوں میں بند فلسطینیوں کی شدید ایذا رسانی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
فلسطین سے ہی ایک اور خبر یہ ہے کہ غاصب صیہونی حکومت کے فوجیوں نے نابلس پر حملہ اور فلسطینیوں کو جارحیت کا نشانہ بناتے ہوئے چار فلسطینی نوجوانوں کو زخمی کر دیا۔ جبکہ آنسو گیس کے استعمال کے نتیجے میں دسیوں فلسطینیوں کی حالت غیر ہو گئی۔
دوسری جانب اسرائیل کی پولیس نے بیت المقدس کے علاقے العیساویہ میں صیہونی فوجیوں کی گاڑیوں پر پتھراؤ کرنے کے الزام میں تین سالہ فلسطینی بچے محمد ربیع علیان کو نوٹس بھیجا ہے۔
المیادین ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق العیساویہ کی شکایات کا جائزہ لینے والی کمیٹی کے رکن محمد ابو الحمص نے کہا ہے کہ صیہونی حکومت کی پولیس نے نوٹس دے کر اس بچے کو تفتیش کے لئے طلب کر لیا ہے۔
وادی حلوہ اطلاعات کے مرکز نے صیہونی حکومت کے اقدام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ جس نے العیساویہ میں حملہ کر کے سولہ سالہ نغم محمد علیان کو اس کے گھر سے حراست میں لے لیا، اعلان کیا ہے کہ اسرائیل نے اس کی آزادی کو، پانچ روز کی گھر میں نظربندی، تاواون کی ادائیگی اور کسی تیسرے فریق کی کفالت سے مشروط کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ مقبوضہ بیت المقدس، حالیہ کئی ہفتوں سے فلسطینیوں کے مکانات کی مسماری کی بنا پر فلسطینیوں اور صیہونی فوجیوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔
صیہونی حکام نے مقبوضہ جنوبی بیت المقدس کے علاقے صور باہر میں گذشتہ پیر کو فلسطینیوں کے ستّر مکانات مسمار کروائے ہیں۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ اوسلو سمجھوتے کی بنیاد پر، کہ جس پر پی ایل او اور صیہونی حکومت نے دستخط بھی کئے ہیں، صور باہر کا علاقہ فلسطین کی خود مختار انتظامیہ کے اختیار میں آتا ہے۔
واضح رہے کہ غاصب صیہونی حکومت کی عدالت نے گذشتہ مہینے فلسطینیوں کے مکانات کی مسماری سے متعلق صیہونی فوج کے حق میں فیصلہ سنایا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button