دنیافلسطینمشرق وسطی

قومی آشتی مذاکرات کے لیے روس کی میزبانی کا خیرمقدم

فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے الفتح تحریک کے ساتھ مذاکرات کی میزبانی کے لیے روسی تجویز کا خیر مقدم کیا ہے۔

حماس کے جاری کردہ بیان میں قومی آشتی کے بارے میں اپنے دیرینہ موقف پر زور دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ فلسطینیوں کے خلاف امریکی اسرائیلی سازشوں کے مقابلے میں قومی وحدت کا حصول انتہائی ضروری ہے۔
حماس نے کے بیان میں سینچری ڈیل کو فلسطینیوں کے خلاف امریکی صیہونی سازش قرار دیتے ہوئے اسے ناکام بنانے کے لیے مشترکہ جدوجہد کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ روس کے نائب وزیر خارجہ میخائل بوگدانوف نے تجویز پیش کی ہے کہ ان کا ملک قومی آشتی کے عمل کو آگے بڑھانے کی غرض سے حماس اور الفتح کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔
الفتح اور حماس نے بارہ اکتوبر دوہزار سترہ کو قاہرہ میں قومی آشتی کے معاہدے پر دستخط کیے تھے تاہم اس پر تاحال عملدرآمد نہیں کیا جاسکا ہے۔

دوسری جانب فلسطینیوں کے پرامن واپسی مارچ پر اسرائیلی فوجیوں کی وحشیانہ فائرنگ میں کم سے کم دو فلسطینی شہید اور چالیس دیگر زخمی ہو گئے۔
غزہ میں فلسطین کی وزارت صحت کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ جمعے کے روز انتالیسویں واپسی مارچ کے دوران صیہونی فوجیوں نے وحشیانہ فائرنگ کرکے دو فلسطینیوں کو شہید کردیا ہے۔
فلسطین کی وزارت صحت کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ میں کم سے کم چالیس فلسطینی زخمی بھی ہوئے ہیں جن میں دو صحافی اور چار امدادی کارکن بھی شامل ہیں۔
تیس مارچ دو ہزار اٹھارہ سے جاری فلسطینیوں کے گرینڈ واپسی مارچ پر صیہونی فوجیوں کی فائرنگ کے نتیجے میں اب تک ڈھائی سو سے زائد فلسطینی شہید اور چھبیس ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
فلسطینی عوام نے اپنے حقوق کی بازیابی کے لئے تیس مارچ دو ہزار اٹھارہ سے گرینڈ واپسی مارچ کا آغاز کیا تھا جس کے تحت ہزاروں افراد ہر جمعے کو غزہ سے ملنے والی مقبوضہ فلسطین کی سرحدوں کی جانب مارچ کرتے ہیں۔
اس مارچ کا مقصد امریکی سفارت خانے کی بیت المقدس منتقلی، فلسطینیوں کی اراضی پر قبضہ کرنے، غیر قانونی صیہونی بستیوں کی تعمیر اور آٹھ سال سے جاری غزہ کے ظالمانہ محاصرے کے خلاف احتجاج کرنا ہے۔ اسرائیل نے سن دو ہزار چھے سے غزہ کا محاصرہ کر رکھا ہے اور وہ وہاں بنیادی اشیا کی ترسیل میں شدید رکاوٹیں پیدا کر رہا ہے جس کے نتیجے میں غزہ کے فلسطینیوں کو غذائی اشیا، ادویات اور دواؤں کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button