انسانی حقوقدنیاشاممشرق وسطی

2018 میں شام میں بچوں کی اموات میں اضافہ

اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف نے دو ہزار اٹھارہ کو شامی بچوں کی سب سے زیادہ اموات کا سال قرار دیا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف کی ایکزیکیٹیو ڈائریکٹر ہنریتا فورہ نے ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ دو ہزار اٹھارہ میں شام کے ایک ہزار ایک سو چھے بچے دہشت گردانہ حملوں میں مارے گئے ہیں اور دو ہزار گیارہ میں شام میں شروع ہونے والے بحران کے بعد سے اب تک کی یہ سب سے بڑی تعداد ہے۔اس بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ تعداد وہ ہے کہ جس کی اقوام متحدہ نے تصدیق کی ہے جبکہ شام میں دہشت گردی کے نتیجے میں مارے جانے والے بچوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

یونیسف کی ایکزیکیٹیو ڈائریکٹر ہنریتا فورہ نے اسی طرح شام کے شمال مغربی علاقے ادلب کی صورت حال پر تشویش کا اظہار اور اعلان کیا کہ صرف چند ہفتوں میں اس علاقے میں دہشت گردانہ حملوں میں انسٹھ بچے مارے گئے ہیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button