مشرق وسطییمن

یمن میں ہر پانچ منٹ میں ایک بچے کی موت

المسیرہ ٹی وی کے مطابق یوسف الحاضری نے منگل کو بتایا کہ ملک میں انسانی حالت انتہائي بحرانی ہو گئی ہے اور سعودی عرب کی قیادت والے اتحاد کو فوری طور پر اپنا محاصرہ ختم کرنا چاہیے۔ یمن کے طبی ذرائع کا کہنا ہے کہ صرف پچھلے مہینے یعنی مئي میں جنوبی شہر عدن میں کورونا سمیت متعددی امراض کے سبب تقریبا دو ہزار لوگوں کی موت ہو گئي ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق پہلی جنوری کو عدن میں ڈینگي، کورونا اور ملیریا جیسی بیماریوں نے اکسٹھ لوگوں کو موت سے ہمکنار کر دیا ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے بھی اس سے قبل یمن میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی جانب سے خبردار کرتے ہوئے اس کے نتائج کی جانب سے متنبہ کیا تھا۔

سعودی عرب نے امریکا، متحدہ عرب امارات اور کچھ دیگر ممالک کی مدد سے مارچ سن دو ہزار پندرہ میں یمن پر حملہ کر دیا تھا جو اب بھی جاری ہے۔ اس نے اسی طرح اس غریب عرب ملک کا بری، بحری اور فضائي محاصرہ بھی کر رکھا ہے۔

سعودی اتحاد کے حملوں اور غیرانسانی محاصرے کی وجہ سے اب تک یمن کے سولہ ہزار سے زیادہ افراد جاں بحق، دسیوں ہزار زخمی اور دسیوں لاکھ بے گھر ہو چکے ہیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close