انسانی حقوقدنیامشرق وسطییورپ

پولیس کے تشدد اور نسل پرستی کے خلاف امریکہ میں پر تشدد مظاہرے جاری

منگل اور بدھ کی درمیانی شب ہونے والے ایک مظاہرے میں بڑی تعداد میں لوگ شریک تھے اور وہ پولیس کے تشدد کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پہلے آنسو گیس کے گولے پھینکے بعد ازاں ربر کی گولیاں چلائیں جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہو گئے۔

یہ مظاہرے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کلپ جاری ہونے کے بعد شروع ہوئے ہیں جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک سیاہ فام امریکی شہری پر پولیس نے سات راؤنڈ فائر کئے ہیں۔

نسلی امتیازی سلوک اور تشدد کے خلاف پورے امریکہ میں کئی مہینے سے احتجاج و مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ امریکی پولیس سیاہ فام شہریوں کے ساتھ امتیازی سلوک کرتی ہے اور شہر مینیاپولیس میں پچیس مئی کو سفید فام پولیس افسر کے ہاتھوں جارج فلائیڈ نامی ایک سیاہ فام امریکی شہری کے قتل کے بعد وسیع پیمانے پر نسل پرستی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے گئے اور احتجاج کا یہ سلسلہ اب بھی بدستور جاری ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close