ایرانمشرق وسطی

جوہری معاہدہ، ایران پر اسلحے کی غیر قانونی پابندی کے تسلسل کے ساتھ مر جائے گا

اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری علی شمخانی نے آج اتوار کی علی الصبح اپنے ٹوئٹر پیج میں اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ پابندیوں کا وائرس امریکہ کے گرتے ہوئے تسلط سے بچنے کے لئے وائٹ ہاؤس کا ہتھیار ہے کہاکہ یورپ کس طرف کھڑا ہے اپنے وقار اور عزت کو برقرار رکھنے یا پھر ذلت و رسوائی کو دوبارہ قبول کرنے اور یکطرفہ پالیسیوں کی حمایت و مدد کرنے کی راہ پر؟

یہ بات قابل ذکر ہے کہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپئو نے حالیہ دنوں کے دوران دعوی کیا تھا کہ امریکہ قرارداد نمبر2231 میں شراکت دار ہے اور ایران پر اسلحے کی پابندی میں توسیع دینے کا فیصلہ کرسکتا ہے۔

اس حوالے سے روس، چین اور بعض یورپی ملکوں کا کہنا ہے کہ امریکہ کا یہ دعوی قرارداد 2231 کی غلط تشریح ہے اس لئے کہ امریکہ نے 8 مئی 2018 کو اس میں شراکت دار بننے سے پہلو تہی کی۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوسپ بورل نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ امریکہ، ایران جوہری معاہدے کا شراکت دار نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ نے جوہری معاہدے سے علیحدہ ہونے کے بعد اس معاہدے کے فریم ورک کے اندر کسی بھی اجلاس میں حصہ نہیں لیا ہے لہذا یہ واضح ہے کہ امریکہ اس معاہدے کا شرکت دار نہیں ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button