ایراندنیامشرق وسطییورپ

امریکی حکومت ایک دہشتگرد حکومت ہے: ایران

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سید عباس موسوی نے تہران کے خلاف امریکہ کے بے بنیاد دعؤوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کو سیاسی، قانونی اور اخلاقی کسی لحاظ سے دیگر ممالک کے بارے میں فیصلہ کرنے کا حق نہیں ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کی نے ایران پر بعض تخریبی اقدامات کی منصوبہ بندی کرنے کے الزام عائد کیا ہے جس پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے سید عباس موسوی نے کہا کہ یہ الزامات من گھڑت اور بے بنیاد ہیں جن کا کبھی کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا ہے اور جو لوگ اس طرح کے الزامات لگاتے ہیں انہوں نے گذشتہ ایک صدی میں کم سے کم پچپن خود مختار ممالک میں بے بنیاد الزامات کے تحت مداخلت کی ہے۔

ترجمان وزارت خارجہ نے کہا کہ دوہزار سترہ سے امریکہ کی یکطرفہ پابندیوں کے نتیجے میں دنیا کے تینتیس ممالک کے عوام پر تباہ کن اثرات مرتب ہوئے ہیں اور امریکا نے اپنی تاریخ میں دنیا پر ایک سو پینتیس بڑی جنگییں مسلط کیں اور اس کی دوسو تینتالیس سالہ تاریخ میں صرف سولہ سال ایسے گذرے ہیں جب اس نے کوئی جنگ ، قتل عام اور خونریزی نہیں کی۔

سید عباس موسوی نے دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکا کی جانب سے دوسرے ممالک میں فوجی بغاوت کروانے ، حکومتوں کا تختہ پلٹنے اور رنگین انقلاب کرانے جیسی سازشوں اور اقدامات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے ذریعے دنیا بھر کے ممالک کے رہنماؤں کی جاسوسی کرانے کے اسکینڈل کہ جس میں زیادہ تر اس کے اتحادی ممالک کے ہی رہنما تھے، اس باغی حکومت کی دیگر ہولناک اور گھناؤنی حرکتیں اور کالی کرتوتیں ہیں۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے امریکا کو دہشت گرد حکومت قرار دیا اور کہا کہ اس بات کے پختہ ثبوت موجود ہیں کہ امریکہ ، انیس سو ساٹھ سے اب تک مغربی ایشیا، یورپ اور لاطینی امریکہ کے ممالک میں کم سے کم آٹھ خونخوار اور وحشیانہ جرائم انجام دینے والے دہشت گرد گروہوں کی حمایت و پشتپناہی کرتا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close