دنیامشرق وسطی

صیہونی وزیر اعظم مظاہروں سے پریشان

قدس کی غاصب اور جابر صیہونی حکومت کے وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو نے اپنی برطرفی کا مطالبہ کرنے والوں پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ جمہوریت کو لپیٹنا چاہتے ہیں اور ذرائع ابلاغ بھی ان کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔

ایک دہائی سے زائد مظلوم فلسطینیوں پر مسلط صیہونی وزیر اعظم نیتن یاہو کے پاؤں اکھڑنے لگے ہیں، تاہم وہ اپنے شہریوں کے لیے بھی وبال جان بنے ہوئے ہیں، کورونا سے نمٹنے میں ناکامی پر شہریوں نے احتجاج کیا تو صہیونی ریاست نے ان کے ساتھ خوب بربریت کا مظاہرہ کیا۔

اسرائیلی وزیر اعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ کرنے پر پولیس نے شہریوں کو سڑکوں پر گھسیٹا اوربد ترین تشدد کا نشانہ بنایا، پولیس نے درجن بھر مظاہرین کو گرفتار بھی کر لیا۔

صیہونی حکومت کے وزیر اعظم کے خلاف کئی ہفتوں سے مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور مخالفین ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس سے قبل نتن یاہو کے گھر کے سامنے ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران ایسے نعرے بھی سنائی دیے کہ ’’نتن یاہو، ان کی بیوی اور بیٹے کو دفن کر دیں گے۔ اس نعرے نے نتن پر شدید خوف طاری کر دیا۔

اسرائیلی شہری اپنے پرائم منسٹر کو کرائم منسٹر قرار دیتے ہیں۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ کرپشن کے الزامات کے تحت تفتیش کا سامنا کرنے والے نتن یاہو جب تک مستعفیٰ نہیں ہوتے احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔

نتن یاہو کو ریاستی سودوں میں بدعنوانیوں کے چار بڑے مقدمات کا سامنا ہے جن کی مجموعی مالیت کئی ارب ڈالر بتائی جاتی ہے۔ ایک صیہونی عدالت نے اکیس نومبر کو، مالی بدعنوانیوں، اختیارات کے ناجائز استعمال اور دھوکہ دھی کے الزامات کے تحت صیہونی وزیر اعظم نتن یاہو پر باضابطہ فرد جرم بھی عائد کر دی ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close