دنیایورپ

امریکا کی خطرناک سازش ناکام، وینیزوئیلا کے صدر کے اغوا کا تھا پلان

روئٹرز نیوز ایجنسی کے مطابق لیوک ڈین مین نامی اس امریکی نے اعتراف کیا ہے کہ وہ وینیزوئیلا کے صدر نکولس مادورو کو اغوا کرنے کے پلان پر کام کر رہا تھا۔

وینیزوئیلا کے سرکاری ٹیلی ویژن پر دکھائے گئے ایک انٹرویو میں لیوک ڈین مین نے اعتراف کیا ہے کہ وہ اس ملک کے صدر کو اغوا کرنا چاہتا تھا۔ اس نے بتایا کہ اس کا کام کاراکاس کے ہوائی اڈے کی کارروائی پر نظر رکھنا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ اس کا بنیادی کام وینیزوئیلا کے صدر کو اغوا کرکے امریکا پہنچانا تھا۔ اس امریکی ایجنٹ نے یہ بھی بتایا کہ جنوری میں وینیزوئیلا کے پچاس باشندوں کو اس سازش پر عمل کے لیے تربیت دی گئی تھی۔

قابل ذکر ہے کہ پیر کو وینیزوئیلا کے صدر نکولس مادورو نے اس ملک میں دو امریکیوں کی گرفتاری کی اطلاع دی تھی۔ پیر کے روز انھوں نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ ان دو امریکی شہریوں کو ایک سابق امریکی فوجی کے ساتھ مل کر وینیزوئیلا کی حکومت کے خلاف سازش پر عمل کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ نکولس مادورو نے صحافیوں کو امریکی شہریوں ایرین بیری اور لیوک ڈین مین کے شناختی کاغذات اور ویزے دکھاتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں ایک سابق امریکی فوجی کے ساتھ مل کر وینیزوئیلا کی حکومت کو گرانے کی کوشش کر رہے تھے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close