انسانی حقوقفلسطینمشرق وسطی

غاصب صیہونی حکومت کے مقابلے میں فلسطینی تنظیموں کے مابین آپسی اتحاد و یکجہتی میں اضافہ

فلسطینی کی استقامتی تحریکوں کے سینیئر ارکان نے غرب اردن پر اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کے مقابلے کی غرض سے حماس اور الفتح تحریک کے درمیان ہونے والے اتفاق رائے کا خیر مقدم کیا ہے۔

جہاد اسلامی فلسطین کے سیاسی دفتر کے رکن نافذ عزام نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہماری توجہ اس وقت تمام فلسطینی قوتوں کے درمیان قومی ڈائیلاگ کے آغاز پر مرکوز ہے اور ہم نے اس سلسلے میں حماس اور الفتح دونوں سے رابطے کیے ہیں۔

فتح کی عوامی کمیٹی کے رکن احمد حلس نے کہا ہے کہ حماس اور الفتح کے درمیان پیدا ہونے والے سازگار ماحول کو فقط ان دو تنظیموں تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ دیگر فلسطینی قوتوں کو بھی ساتھ ملانے کی کوششیں تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ باہمی اختلافات کو بھلانے کا بہترین موقع ہے اور اس سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔

ادھر حماس کے سینیئر رکن محمود الزھار نے یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ نئے اصولوں کی بنیاد پر سرزمین فلسطین کی آزادی کے لیے مسلح جد و جہد کا روڈ میپ تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری فلسطینی قوم کو اپنے وطن کی آزادی کے لیے متحد ہوجانا چاہیے۔ محمود الزھار نے تنظیم آزادی فلسطین کے اصل مقصد کے تعین اور اوسلو معاہدے کے خاتمے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں غرب اردن کے علاقے میں اسی طرز پر کام کرنے کی ضرورت ہے جس پر غزہ میں عمل کیا جاتا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close