عربفلسطینمشرق وسطی

امارات کی غداری پر فلسطین کا احتجاج، اپنے سفیر کو ہمیشہ کے لئے واپس بلا لیا

تسنیم خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق فلسطین کی تنظیم فتح کی مرکزی کمیٹی کے سیکریٹری جبرئیل الرجوب نے کل رات کہا کہ غاصب صیہونی حکومت اور متحدہ عرب امارات کے مابین ہونے والے معاہدے پر بطور احتجاج ابو ظہبی میں تعینات فلسطینی سفیر واپس آ گئے ہیں۔

متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کی برقراری پر عالمی سطح پر مذمت اور احتجاج کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

پاکستان کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کی برقراری پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام کے، فلسطین اور عالم اسلام کے لئے دور رس نتائج برآمد ہوں گے۔

اس سے قبل اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ نے بھی متحدہ عرب امارات اور غاصب صیہونی حکومت کے درمیان تعلقات کی استواری کی مذمت کرتے ہوئے اس اقدام کو حماقت سے تعبیر کیا کہ جس کا نتیجہ علاقے میں استقامتی محاذ کی تقویت کے سوا اور کچھ برآمد نہیں ہو گا۔

ہادی العامری کی زیر قیادت عراق کے الفتح الائنس نے تمام مسلمانوں اور عرب قوموں سے مطالبہ کیا ہے کہ غاصب صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات کی برقراری پر وہ متحدہ عرب امارات کے حکمرانوں کا بائیکاٹ کریں۔

دوسری جانب فلسطینی اتھارٹی کے ترجمان نبیل ابو ردینہ نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے غاصب صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات کی برقراری کا اقدام فلسطینیوں کے خلاف غاصب صیہونیوں کے جرائم اور مظالم کے لئے ہری جھنڈی دکھائے جانے کے مترادف ہے۔

جمعہ کے روز فلسطین کے مختلف علاقوں میں متحدہ عرب امارات اور غاصب صیہونی ٹولے کے مابین ہونے والے امن معاہدے اور تعلقات کی باضابطہ برقراری کے خلاف مظاہرے ہوئے۔

مغربی کنارے کے فلسطینی باشندوں نے مظاہرے کے دوران متحدہ عرب امارات کے پرچم کو نذر آتش کر کے اسکی خیانت سے اظہار نفرت و بیزاری کیا۔

یاد رہے کہ بعض عرب ممالک کے پہلے سے ہی غاصب صیہونی حکومت کے ساتھ خفیہ تعلقات رہے ہیں جو اب مکمل طور پر آشکار ہوتے جا رہے ہیں۔

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے اس مجرمانہ اقدام سے امت مسلمہ اور خاص طور پر فلسطینی مسلمانوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور اب فلسطین میں ہونے والے مظاہروں میں جہاں غاصب صیہونی ٹولے کے خلاف نعرے بازی ہوتی ہے وہیں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو لعن طعن بھی کیا جاتا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ خطے کی بعض رجعت پسند عرب حکومتیں اپنی بقا کو لے کر عوام کی جانب سے خوف و ہراس کا شکار ہیں اور اقتدار کے تحفظ کے لئے امریکہ و اسرائیل کے ساتھ اتحاد انکی مجبوری بن گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close