عراقمشرق وسطی

امریکہ سے ڈکٹیشن نہیں لیں گے، عراقی صدر

عراق کے صدر نے امریکہ کے مداخلت پسندانہ بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اصلاحات کے معاملے میں کسی کی ڈکٹیشن قبول نہیں کریں گے۔

صدر برھم صالح کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے ملک میں اصلاحات کا عمل خالص عراقی فیصلہ ہے اور عوامی خواہشات کے مطابق انجام پائے گا۔عراقی صدر کے بیان میں اپنے ملک کے اندرونی معاملات میں ہر قسم کی مداخلت کو سختی کے ساتھ مسترد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ عراق کے عوام قومی مفادات کی ترجیحات کے مطابق، مرجعیت کی رائے کا احترام کرتے ہوئے، ملکی آئین کے مطابق آزادانہ فیصلہ کریں گے۔قابل ذکر ہے کہ وائٹ ہاؤس نے اتوار کی شب جاری کیے جانے والے مداخلت پسندانہ بیان میں حکومت عراق سے قبل از وقت انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔امریکہ کے مداخلت پسندانہ بیان پر حمکت ملی پارٹی کے سربراہ سید عمار حکیم، عصائـب اہل الحق کے سربراہ قیس خزعلی اور الصدر پارٹی کے سربراہ مقتدی صدر سمیت متعدد رہنماؤں نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

بھی چیک کریں
Close
Back to top button