ایرانمشرق وسطی

ایران اور پاکستان کے روابط میں مزید استحکام اور فروغ آئے گا،جواد ظریف

ایران کے وزیر خارجہ ڈاکٹر محمد جواد ظریف نے پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کے دورہ ایران کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس دورے سے دونوں ملکوں کے روابط میں مزید استحکام اور فروغ آئے گا۔ انھوں نے اسی کے ساتھ پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں جمعرات کو انجام پانے والے دہشت گردانہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گرد مسلمان ملکوں کے قریبی روابط سے وحشت زدہ ہیں۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ ڈاکٹر محمد جواد ظریف نے اپنے ایک ٹوئٹ میں اتوار اکیس اپریل سے شروع ہونے والے، پاکستان کے وزیر اعظم کے دورہ ایران کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کا یہ دورہ دونوں ملکوں کے روابط میں ایک اہم موڑ ثابت ہوگا۔ وزیر خارجہ ڈاکٹر محمد جواد ظریف نے کہا ہے کہ اس دورے سے ایران اور پاکستان کے روابط میں مزید استحکام اور فروغ آئے گا۔
وزیر خارجہ ڈاکٹر محمد جواد ظریف نے اسی طرح پاکستان میں انجام پانے والے حالیہ دہشت گردانہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ انتہا پسند، دہشت گرد اور ان کے سرپرست مسلمان ملکوں کے قریبی روابط سے وحشت زدہ ہیں۔
انھوں نے دہشت گردی کے خلاف مہم میں تہران اور اسلام آباد کے تعاون پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران، دہشت گردی کے خلاف مہم میں ہمیشہ پاکستانی عوام اور حکومت کے ساتھ ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سید عباس موسوی نے بھی پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں انجام پانے والے حالیہ دہشت گردانہ حملوں کی مذمت کی ہے۔ انھوں نے جمعے کی رات ایک بیان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں، پاکستان کے ساتھ سیکورٹی، انٹیلیجنس اور آپریشنل تعاون کے لئے اسلامی جمہوریہ ایران کی آمادگی کا اعلان کیا۔
انھوں نے کہا کہ دہشت گردی کی لعنت، ان سبھی ملکوں کے باہمی تعاون کے بغیر ختم نہیں ہوسکتی جو اس کا نشانہ بنے ہیں۔
یاد رہے کہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں گزشتہ دنوں دو بڑے دہشت گردانہ واقعات رونما ہوئے۔ پہلے واقعے میں کوئٹہ کے ہزار گنجی علاقے کے پھلوں کے بازار میں بم کا دھماکہ ہوا جس میں 20 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔اس دھماکے کی ذمہ داری تکفیری دہشت گرد گروہ داعش نے قبول کی تھی۔
دوسرا واقعہ گزشتہ جمعرات کو رونما ہوا جس میں مکران گوادر روڈ پر دہشت گردوں نے چودہ افراد کو بسوں سے اتار کے پہلے ان کا شناختی کارڈ چیک کیا اور پھر انہیں گولیوں سے بھون دیا۔ پاکستانی ذرائع کے مطابق اس دہشت گردانہ حملے میں جاں بحق ہونے والوں میں پاکستانی فضائیہ کا ایک اور بحریہ کے دس جوان شامل تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری پاکستان کی تین کالعدم تنظیموں کے اتحاد براس نے قبول کی ہے۔
پاکستان کا صوبہ بلوچستان ایک عرصے سے بدامنی اور دہشت گردی کی آماجگاہ ہے جہاں آئے دن پبلک مقامات، بازاروں، سیکورٹی اہلکاروں کی گاڑیوں اور زائرین کی بسوں پر دہشت گردانہ حملے ہوتے رہتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button