ایرانمشرق وسطییورپ

ایران نے ڈسپیوٹ میکنیزم پر سوال کھڑے کردیئے

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سید عباس موسوی نے پیر کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ایران کی وزارت خارجہ نے یورپی یونین کے خارجہ پالیسی انچارج کے نام چودہ صفحات پر مشتمل ایک خط میں ان کے دلائل پر اعتراض کیا ہے۔
یورپی یونین کے خارجہ پالیسی انچارج جوزف بورل کے دورہ تہران کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران ، یورپی یونین کی جانب سے ایٹمی سمجھوتے میں کئے گئے وعدے پورے نہ کرنے اور اس سمجھوتے سے امریکہ کے یکطرفہ طور پرباہر نکلنے سے بہت ناخوش ہے۔
سید عباس موسوی نے ایران اور سوئیزرلینڈ کے درمیان انسان دوستانہ چینل شروع کرنے کی یاد دہانی کراتے ہوئے کہا کہ ایران، انساندوستانہ چینل کے عنوان سے کسی طریقہ کار کو تسلیم نہیں کرتا اور تاکید کرتا ہے کہ غذاؤں اور دواؤں پر کبھی بھی پابندی نہیں ہونا چاہئے۔ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے انسٹیکس کی تازہ ترین صورت حال کے سلسلے میں کہا کہ یہ سسٹم یورپ کی جانب سے کئے گئے گیارہ وعدوں پر عمل درآمد کا مقدمہ تھا تاہم وہ اس پر عمل درآمد شروع کرنے کے لئے بدستور وائٹ ہاؤس کے گرین سگنل کے منتظر ہیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button