عربمشرق وسطی

عام شہریوں پر سعودی جارحیت کی مذمت

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے یمن کے شہر صعدہ کے بازار پر سعودی عرب کے وحشیانہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے شہید اور زخمی ہونے والوں کے اہلخانہ اور یمنی عوام سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔

سعودی اتحاد کے جنگی طیاروں نے پیر کی شام یمن کے صوبے صعدہ کے علاقے قَطابِر کے ایک بازار پر وحشیانہ بمباری کی جس میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق چودہ عام شہری شہید اور گیارہ بچوں سمیت تئیس افراد زخمی ہو گئے۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سیدعباس موسوی نے سعودی عرب کے اس قسم کے غیر انسانی اور وحشیانہ حملوں پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یمن پر جارح فورسز کی گزشتہ چار سال سے جارحیت کا سلسلہ جاری ہے اور اس یکطرفہ جنگ میں تباہی و بربادی اور عام شہریوں کے جانی نقصان کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آیا ہے اس لئے وہ عورتوں، معصوم بچوں اور عام شہریوں کے قتل عام کے ذریعے سیاسی اور فوجی شکست کا بدلہ لینے کی کوشش کر رہا ہے۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے یمن میں جارح فورسز کی انسان دشمن کارروائیوں اور جنگی جرائم پر عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور بعض یورپی ممالک جارح قوتوں کو ہتھیار فروخت کر کے اس قسم کے جرائم میں برابر کے شریک ہیں اور انھیں اس حوالے سے جواب دینا ہو گا۔
قابل ذکر ہے کہ سعودی عرب نے امریکا اور اسرائیل کی حمایت سے اور اتحادی ملکوں کے ساتھ مل کر چھبیس مارچ دو ہزار پندرہ سے یمن پر وحشیانہ جارحیتوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ سعودی حملوں میں دسیوں ہزار یمنی شہری شہید اور زخمی ہوئے ہیں جبکہ دسیوں لاکھ یمنی باشندوں کو اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔
سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں نے یمن کا زمینی، فضائی اور سمندری محاصرہ بھی کر رکھا ہے جس کی وجہ سے یمنی عوام کو شدید غذائی قلت اور طبی سہولتوں اور دواؤں کے فقدان کا سامنا ہے۔
سعودی عرب نے غریب اسلامی ملک یمن کی بیشتر بنیادی تنصیبات اسپتال اور حتی مسجدوں کو بھی منہدم کر دیا ہے لیکن اس کے باوجود یمنی عوام کی استقامت اور مزاحمت کے نتیجے میں سعودی عرب اپنے اہداف تک پہنچنے میں بری طرح ناکام ہو گیا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button