ایرانمشرق وسطی

ایران کی دفاعی صنعت جہادی مینجمنٹ اور فعال استقامت کا نتیجہ ہے: شمخانی

ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری نے اسلامی جمہوریہ ایران کی دفاعی صنعت کو اسلامی انقلاب کا مولود ہونے کے ساتھ ساتھ جہادی مینجمنٹ اور فعال استقامت کا نتیجہ قرار دیا ہے۔

ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری علی شمخانی نے یوم دفاعی صنعت کے موقع پر ایک ٹوئٹ میں لکھا کہ ایران کی دفاعی صنعت، اسلامی انقلاب کی پیداوار، جہادی مینجمنٹ اور فعال استقامت و پائداری کا نتیجہ ہے۔

علی شمخانی نے مزید کہا کہ دفاعی صنعت کے میدان میں رہبر انقلاب اسلامی کی رہنمائی پر بیس سال قبل جس اسٹریٹیجی کی بنیاد رکھی گئی تھی اس نے شدید ترین پابندیوں کے باوجود ملک کی دفاعی طاقت اور ترقی کے عمل کو برقرار رکھا ہے ۔

اس درمیان ایران کے وزیر دفاع نے کہا ہے میزائلی صلاحیت کے سلسلے میں اسلامی جمہوریہ ایران کا موقف ایک فعال دفاعی طاقت حاصل کرنا اور جنگ کو روکنا ہے۔

ایران کے وزیر دفاع بریگیڈیئر جنرل امیر حاتمی نے قومی نیوز چینل پر گفتگو میں ملک کی دفاعی صلاحیتوں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی میزائلی طاقت کا تعلق ایران کے عوام سے ہے اور جب تک دفاع کی ضرورت باقی رہے گی اس وقت تک اسے بھی اپ گریڈ کیا جاتا رہے گا۔

جنرل امیر حاتمی کا کہنا تھا کہ ایران کی دفاعی صنعت حقیقی طور پر عروج پر پہنچ چکی ہے اور ایران کی میزائلی طاقت کے سلسلے میں دشمن کی حساسیت کی وجہ یہ ہے کہ وہ اب اسلامی جمہوریہ ایران کی جوابی کارروائی کو روکنے پر قادر نہیں ہے۔

ایران کے وزیر دفاع نے زمینی جنگ میں ملک کی کامیابیوں کے سلسلے میں کہا کہ زمینی جنگ کے میدان میں مختلف قسم کے اسلحوں اور جنگی ساز و سامان کا استعمال کیا جاتا ہے اور وزارت دفاع اس میدان میں اپنی ضروریات پوری کرنے کے لئے مکمل طور پرخود کفیل ہو چکی ہے۔

جنرل امیرحاتمی نے بحریہ کے شعبے میں بھی ایران کی وزارت دفاع کی کامیابیوں کا ذکر کیا اور کہا کہ فوج اور سپاہ پاسداران کی بحریہ بھی جنگی ساز و سامان، میزائلوں اور دفاعی سسٹم کے لحاظ سے بڑی طاقتوں کے ہم پلّہ بن گئے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران میں اکیس اگست کو یوم دفاعی صنعت کے طور پر منایا جاتا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close