امام خامنہ ایایرانعراقمثالی شخصیاتمشرق وسطی

امریکہ سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ،وہ کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا: رہبر انقلاب اسلامی

رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے منگل 21 جولائی 2020 کو عراق کے وزیر اعظم مصطفی الکاظمی سے ملاقات میں کہا کہ ایران اور عراق کے روابط بے شمار تاریخی، مذہبی، ثقافتی اشتراکات اور حقیقی معنی میں برادرانہ عادات و اطوار کے ذخیرے پر استوار ہیں۔
رہبر انقلاب اسلامی نے زور دیکر کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے نزدیک دو طرفہ تعلقات میں جو چیز خاص اہمیت رکھتی ہے وہ عراق کے مفادات و منفعت، سلامتی، وقار، علاقائی اقتدار اور حالات کی بہتری ہے۔

آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے واشگاف الفاظ میں فرمایا کہ ایران کا عراق کے داخلی امور میں مداخلت کا کبھی ارادہ تھا نہ رہے گا، آپ نے فرمایا کہ ایران، عراق کو باوقار و خود مختار اور اس کی ارضی سالمیت اور داخلی اتحاد و یکجہتی کو محفوظ دیکھنا چاہتا ہے اور یقینا ہر اس چیز کا مخالف ہے جو حکومت عراق کو کمزور کرے۔

رہبر انقلاب اسلامی کا کہنا تھا کہ عراق کے بارے میں امریکیوں کا نقطہ نگاہ ہمارے عین مخالف ہے کیونکہ امریکہ حقیقت میں دشمن ہے جو خود عراق کو خود مختار، مقتدر اور اکثریت حاصل کرنے والی حکومت سے بہرہ مند نہیں دیکھنا چاہتا۔

آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے زور دیکر فرمایا کہ امریکیوں کے لئے اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے کہ کون شخص عراق کا وزیر اعظم بنتا ہے، انھیں تو بس ایسی حکومت چاہئے جو صدام کی سرنگونی کے بعد عراق میں امریکی حکمراں پال بریمر نے تشکیل دی تھی۔

رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ امریکہ سے عراق کے روابط کے بارے میں ایران کوئی مداخلت نہیں کرتا لیکن یہ توقع ضرور ہے کہ عراقی احباب امریکہ کو پہچانیں اور یہ سمجھیں کہ کسی بھی ملک میں امریکہ کی موجودگی فساد اور تباہی و بربادی کا سبب ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close