ایرانایشیاپاکستانمشرق وسطی

ایران و پاکستان اقتصاد سمیت مختلف شعبوں میں ایک ساتھ آگے بڑھنے کے لئے پر عزم

اسنا کی رپورٹ کے مطابق ایران میں پاکستان کے سفیر رحیم حیات قریشی نے ہفتے کے روز شہر زاہدان میں صوبے سیستان و بلوچستان کے گورنر احمد علی موہبتی سے ملاقات میں کہا ہے کہ دونوں ممالک تہذیب و تمدن سمیت مشترکہ اقدار کے حامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مغربی سرحدیں ایران کے صوبے سیستان و بلوچستان سے ملتی ہیں اور دونوں ملکوں کے تعلقات کی توسیع میں ایران کے اس صوبے کا کردار خاص اہمیت کا حامل ہے۔

اس ملاقات میں ایران کے صوبے سیستان و بلوچستان کے گورنر احمد علی موہبتی نے بھی ایران و پاکستان کے درمیان ریمدان گبد گذرگاہ کے افتتاح میں پاکستانی حکام کے تعاون پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اس گذرگاہ کو دونوں ملکوں کے دوستانہ تعلقات کے استحکام اور دو طرفہ تجارتی و اقتصادی تعلقات کی توسیع میں ایک بڑی تبدیلی کا باعث قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ گوادر اور چابہار کی بندرگاہیں ایک دوسرے کی تکمیل کا باعث ہیں اور یہ بندرگاہیں دونوں ملکوں کے اقتصادی تعلقات کی توسیع کے ساتھ ہی پڑوس کے علاقوں سے پسماندگی کا خاتمہ کرنے میں اپنا اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ ایران اور پاکستان کے مابین دوسری سرحدی گزرگاہ ریمدان گبد کا ہفتے کے روز باضابطہ افتتاح کر دیا گیا ہے۔ ریمدان گبد گزرگاہ کے افتتاح کے موقع پر دونوں ملکوں کے صوبائی اور ملکی سطح کے حکام بھی موجود تھے۔

نئی سرحدی گزرگاہ کے ذریعے ایران اور پاکستان کے درمیان تجارتی لین دین کے علاوہ مسافروں کو بھی قانونی سفری دستاویزات کے ساتھ آنے جانے کی اجازت ہوگی۔

ایران پاکستان سرحد پر واقع ریمدان گزرگاہ، چابہار کی بندرگاہ سے ایک سو بیس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے جبکہ پاکستان کی بندرگاہ گوادر سے اس کا فاصلہ محض ستر کلومیٹر ہے۔ ریمدان گزرگاہ پاکستان، چین اور ہندوستان میں آباد دنیا کی سینتس فی صد آبادی کے لیے ایران تک رسائی کا سستا اور آسان ترین راستہ ہے۔

توقع ہے کہ ریمدان گبد سرحد کے افتتاح سے ایران اور پاکستان کے درمیان اقتصادی اور تجارتی لین دین میں اضافہ ہوگا اور مسافروں کو آنے جانے میں سہولت ملے گی۔ ایران اور پاکستان کے درمیان نو سو نو کلومیٹر کی مشترکہ سرحد ہے تاہم اب تک دونوں ملکوں کے درمیان صرف میرجاوہ تفتان بارڈر ہی فعال رہا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ ریمدان سرحدی گذرگاہ ایران کے جنوب مشرقی علاقے میں واقع صوبے سیستان و بلوچستان اور پاکستان کے شہر کراچی نیز گوادر بندرگاہ کے قریب واقع ہونے کی بنا پر ایران و پاکستان کے درمیان سالانہ پانچ ارب ڈالر کی تجارت کے مقصد کے حصول کا آسان اور سستا ذریعہ بن سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

بھی چیک کریں
Close
Back to top button