انسانی حقوقدنیامشرق وسطییورپ

اسرائیلی وزیراعظم کے خلاف احتجاجی مظاہرہ، مستعفی ہونے کا مطالبہ

قدس کی غاصب اور جابر صیہونی حکومت کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور ان کی انتظامیہ کے خلاف احتجاج کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور اسی سلسلے میں کل رات ان کے گھر کے سامنے شدید احتجاج کیا گیا اور ہزاروں اسرائیلی عوام نے ان کے خلاف نعرے لگائے اور ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ۔ پولیس نے احتجاج کرنے والے 5 افراد کو گرفتار کر لیا ۔

تل ابیب میں نیتن یاہو کی رہائش گاہ کے باہر احتجاج اب ہر معمول بن گیا ہے جہاں پولیس مظاہرین کے خلاف ہر گزرتے دن کے ساتھ سختی سے نمٹ رہی ہے۔

نیتن یاہو کو کرپشن اور مالی بد عنوانیوں کے الزامات کا سامنا ہے لیکن اس کے باوجود وزارت عظمیٰ کے منصب پر رہنے کی وجہ سے انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جبکہ انہیں کورونا وائرس کی آڑ میں غیرجمہوری طریقے استعمال کرنے جیسے الزامات کا بھی سامنا ہے۔

چند روز قبل بھی مظاہرین نے ہجوم کی شکل میں یروشلم کی گلیوں سے نیتن یاہو کی رہائش گاہ اور پھر پارلیمنٹ کی جانب مارچ کیا تھا۔ مظاہرین اسرائیلی وزیراعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہے تھے اور ان کے ہاتھ میں بینرز اور پلے کارڈ تھے جن پر نیتن یاہو کے خلاف نعرے درج تھے۔

کورونا وائرس کے باوجود حالیہ ہفتوں کے دوران تل ابیب میں صیہونی حکومت کے وزیراعظم کے خلاف متعدد بار مظاہرے ہوچکے ہیں اور یہ سلسلہ جاری ہے۔

واضح رہے کہ صیہونی حکومت کی ایک کورٹ نے اکیس نومبر کو مالی بدعنوانیوں، اختیارات کے ناجائز استعمال اور دھوکہ دھی کے الزام میں اسرائیلی وزیراعظم پر باضابطہ طور پر فرد جرم بھی عائد کردی ہے۔

نیتن یاھو کو سودوں میں بدعنوانیوں کے چار بڑے مقدمات کا سامنا ہے جن کی مجموعی مالیت اربوں ڈالر بتائی جاتی ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close