انسانی حقوقدنیاعربلبنانمشرق وسطییورپ

حزب اللہ کا بیان، انتقام اور جوابی کاروائی ابھی باقی ہے

حزب اللہ لبنان نے جنوبی لبنان پر صیہونیوں کے حملوں پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے تاکید کی ہے کہ صیہونی حکومت، مزاحمتی گروہ کی جوابی کاروائی کے خوف سے بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئی ہے۔ حزب اللہ لبنان نے تاکید کی کہ مزاحمت کی جانب سے ایک بھی گولی فائر نہیں کی گئی، صیہونی حکام کے بیانات کسی بھی طرح سے صحیح نہیں ہیں، یہ فائرنگ صرف یکطرفہ رہی ہے۔

صیہونی فوجیوں نے پیر کو لبنان کے کفر شوبا کے پہاڑی علاقوں اور مقبوضہ شبعا فارمز پر حملہ کر دیا۔

اس حملے کے بعد کچھ صیہونی میڈیا نے اعلان کیا ہے کہ حزب اللہ کے جوانوں اور صیہونی فوجیوں کے درمیان شبعا فارمز میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

العالم ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حزب اللہ لبنان نے پیر کی شام ایک بیان جاری کرکے صیہونی میڈیا کے دعوؤں کو مسترد کر دیا اور کہا کہ مقبوضہ فلسطین میں حزب اللہ کے جوانوں کے داخل ہونے اور متعدد مجاہدین کے شہید و زخمی ہونے پر مبنی اسرائیلی میڈیا کے بیانات، حقیقت پر مبنی نہیں ہیں اور یہ صیہونیوں کی خام خیالی، خیالی کامیابی اور جھوٹی کوشش ہے۔

حزب اللہ کے بیان میں آیا ہے کہ لبنان کی سرحد پرغاصب صیہونی فوجیوں اور صیہونی آبادکاروں کا خوف و ہراس، ان کا پوری طرح الرٹ ہونا اور مزاحمت کی جانب سے اپنے ایک مجاہد کی شہادت کے انتقام سے خوفزدہ صیہونی، میڈیا اور جنگ کے میدان میں پروپیگینڈے کر رہے ہیں اور یہ صیہونی حکومت کی بوکھلاہٹ کی نشانی ہے۔

حزب اللہ لبنان نے تاکید کی کہ مزاحمت کی جانب سے ایک بھی گولی فائر نہیں کی گئی، صیہونی حکام کے بیانات کسی بھی طرح سے صحیح نہیں ہیں، یہ فائرنگ صرف یکطرفہ رہی ہے۔

حزب اللہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ حزب اللہ کے جوان کی شہادت اور سرحدی گاؤں الہباریہ میں عام شہریوں کے گھروں پر بمباری کا یقینی جواب دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close