genelاسلاماہل بیتبدیع ازمان سعید نورسیترکیدنیاقرآنمثالی شخصیاتمشرق وسطی

“بسم اللہ” کی تفسیر و راز کلیات رسائل نور

موالف: استاد بدیع الزمان سعید نورسی سنّی عالمِ دین ، ترکی

پہلا مقالاہ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

 

“بسم اللہ”  ہر اچھائ اور بھلائ کی بنیاد اور ہر اہم کام کاسرِآغاز ہے، اس لیے ہم بھی آغاز اسی کے ساتھ کرتے ہیں۔

 

جانِ من! تمہیں اس بات کا علم ہونا چاہیے کہ یہ پاکیزہ اور مبارک لفظ جس طرح اسلام کا ایک شعار ہے، اسی طرح یہ وہ برگزیدہ کلمہ  ہے جس کا ذکر تمام موجودات زبانِ حال سے کررہی ہیں۔

 

پس اے میری جان! اگر تمہاری یہ خواہش ہے کہ تجھے  اس میں پائ جانے والی اس دائمی اور عظیم الشان اور نہ ختم ہونے والی  وسیع و عریض برکات کا ادراک حاصل ہوجائے تو اس  چھوٹی سی تمثیلی کہانی کو غور سے سنو:

 

ایک بدوی یا دیہاتی  آدمی  جس کا صحرا میں پھرنا پھرانا اور آنا جانا رہتا ہے،  اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایک قبیلے سردار  کے ساتھ راہ و رسم رکھے  اور اس کی حمایت اور حفاظت میں رہے، تاکہ آوارہ و بدمعاش لوگوں کی دستبرد سے محفوظ رہ کر اپنے کام سر انجام دے سکے اور اپنی حاجات و ضروریات  کی تکمیل کر سکے، بصورت دیگر وہ بے شمار دشمنوں کے سامنے تنہا، حیرت زدہ ، بے چین اور پریشان حال رہ جائے گا؛ کیونکہ اس کی حاجات و ضروریات جو کہ حد و حساب ہیں، اِس طرح کی بے پروائ سے پوری نہیں ہو پائیں گی۔

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ دو آدمی اس قسم کی سیاحت کے لیے گھر سے  نکلے، ان میں سے ایک آدمی عاجز اور متواضع اور دوسرا خود سر اور مغرور تھا ، عاجز اور متواضع آدمی اپنا تعلق ایک سردار کے ساتھ جوڑ کر اس کی ماتحتی میں آگیا، جبکہ مغرور آدمی نے کسی کے ساتھ اس قسم کا تعلق جوڑنے سے انکار کردیا۔دونوں اس صحرا میں گھومے پھرے ۔۔۔ سردار کے ساتھ تعلق رکھنے والا آدمی جس خیمے میں جاتا سردار کی تعلقداری کی وجہ سے ہر کوئ اس کے ساتھ عزت و احترام سے پیش آتا، اور اگر راستے میں اسے کوئ لٹیرا مل جاتا  تو وہ اسے کہتا:”میں یہاں  کے علاقے کے سردار کا آدمی ہوں اور اُسی کے تعارف  اور مہربانی سے یہاں گھوم پھر رہا ہوں  ۔” اس پر وہ لٹیرا اس کا راستا چھوڑ دیتا، جبکہ خود سر اور مغرور آدمی کو اس قدر مصائب و آلام کا سامنا کرنا  پڑا  کہ جو بیان سے باہر ہے ؛ کیونکہ وہ اپنے تمام سفر میں مستقل خوف و ہراس اور مسلسل  خطرات سے دوچار رہا ، اور یوں اس نے اپنے آپ کو خود ہی ذلیل کر لیا۔

پس اے میرے مغرور نفس!

یاد رکھو کہ تم ہی وہ سیر و گردش کرنے والے دیہاتی ہو، اور یہ وسیع و عریض دنیا وہ صحرا ہے جس میں تم  گھوم پھر رہے ہو۔تمہارے ” فقر و عجز” کی کوئی حد نہیں ہے ، اس ہی طرح تمہارے دشمنوں کی اور تمہاری حاجات و ضروریات کی  بھی کوئی حد نہیں ہے۔ تو حالت جب یہ ہے تو پھر  اس صحرا کے حقیقی مالک اور ابدی حاکم کی پناہ میں آجاؤ، اس طرح تم دنیا کے سامنے ہاتھ پھیلانے اور مصائب و حادسات کے سامنے خوف و خطر کی ذلت سے بچے رہو گے۔

 

جی ہاں! یہ پاکیزہ کلمہ: ” بسم اللہ” اتنا بڑا خزانہ ہے جو کبھی فنا نہیں ہوگا، اس پاکیزہ کلمے کے ذریعے تمہارا ” عجز” کائنات سے بھی وسیع  اور بے پایاں رحمت کے ساتھ منسلک ہوجائے گا ، اور اس کی برکت سے تمہارا ” فقر” اور تمہاری درماندگی اس عظیم اور بے پایاں قدرت کے ساتھ  منسلک ہو جائے گی جس نے ذرات لے کر کہکشاؤں تک تمام کائنات کو سنبھالا ہوا ہے ، حتٰی کہ تمہارا ” عجز اور تمہارا “فقر” دونوں اس ربِّ رحِیم و ذُالجلال وَ الْاِ کْرَم کے حضور تمہارے سفارشی بن جائیں گے ۔ اور اِن کی سفارش قبول بھی ہوگی۔

 

بے  شک جو شخص  اپنی حرکات و سکنات  اور صبح و شام “بسم اللہ “ کے ساتھ کرتا ہے اس کی مثال ایسی جیسے کوئی شخص فوج میں بھرتی ہوجائے ، اب وہ حکومت کے نام سے ہر قسم کا تصرف کرتا ہے اور کسی سے خوف نہیں کھاتا ہے، وہ ” قانون  اور حکومت ” کا ترجمان بن جاتا ہے  ، اس طرح وہ اپنا کام سر انجام دیتا ہے اور ہر چیز کے سامنے ثابت قدم رہتا ہے۔

 

ہم نے ابتدا میں ذکر کیا ہے کہ  تمام موجودات اپنی زبان حال سے  اللہ کا نام جپ رہی ہے، یعنی وہ ” بسم اللہ “ کہہ رہی ہیں۔۔۔ کیا واقعتا   ایسے ہی ہے؟ جی ہاں! ایسا ہی ہے  ، اگر آپ دیکھیں کہ ایک آدمی تمام لوگوں کوہانکتا ہوا ایک جگہ پر اکٹھا کرہا ہے اور انہیں مختلف کام کرنے پر مجبور کرہا ہے ، تو آپ کو یقین ہوجائے گا کہ یہ شخص اپنی ذات کی ترجمانی نہیں کرہا ہے  اور لوگوں کو اپنے نام ، طاقت اور قوت کے بل بوتے پر  اس طرح نہیں ہانک رہا ہے بلکہ وہ یہ سب کچھ    حکومت کے نام سے کرہا ہے اور اس کی پشت پر حکمران کا ہاتھ ہے۔  موجودات کا بھی یہی حال ہے  کہ ہر  چیز اپنا کام ” بسم اللہ “ یعنی اللہ کے نام کی طاقت کے ساتھ سرانجام دے رہی ہے۔ انتہائی چھوٹے چھوٹے بیج اپنے سروں پر قدآور درخت اور بھاری بھرکم  بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں ، یعنی ہر درخت کہہ رہا ہے : ” بسم اللہ “ ، اور رحمتِ الٰہی کے خزانے سے اپنے ہاتھ پھلوں سے بھر بھر کر ہمیں دے رہا ہے ۔۔۔ اور ہر باغ کہتا ہے :

“بسم اللہ “  ، اور قدرت الٰہیہ کا ایک ایسا باورچی خانہ بن جاتا ہے جس میں  انواع و اقسام کے کھانے پکتے ہیں۔ ہر با برکت اور نفع بخش جانور ۔۔۔ جیسے انٹنی، بکری  اور گائے وغیرہ۔۔۔ کہتا ہے: “بسم اللہ” ، تو وہ میٹھے اور لذیذ دودھ کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا چشمہ بن جاتا ہے  اور اس طرح وہ ہمیں  اس رزق دینے والے خدا ( الرّزاق)  کے نام کی برکت سے لطیف ، پاکیزہ خوشگوار اور غذائیت  سے بھر پور دودھ مہیا کرتا ہے۔۔۔ ہر نبات اور جڑی بوٹی کی جڑیں کہتی ہیں: ” بسم اللہ “، تو اس نام کی برکت سے اپنی نرم و نازک  ، کومل کومل اور ریشمی شاخوں سے  بڑی بڑی مضبوت چٹانیں چیر کر، اور ان میں سراغ ڈال کر باہر آجاتی ہیں، اور ” اللہ ” اور ”  الرحمٰن” کے نام سے ان کے سامنے ہر سخت چیز نرم اور  ہر  مشکل مرحلہ آسان ہوجاتا ہے۔

 

جی ہاں!   بیشک شاخوں اور ٹہنیوں کا  ہوا میں پھیلنا ، ان کا پھلوں سے بار آور ہونا، جڑوں کا سخت چٹانوں میں منتشر ہوجانا اور مٹی کی تاریکیوں میں ان کا غذا کو ذخیرہ کرنا۔۔۔ اسی طرح سبز پتوں کا  گرمی کی شدت اور اس کی لوُ کو برداشت کرتے ہوئے تر و تازہ رہنا ۔۔۔یہ سب کچھ اور اس طرح کے دوسرے بے شمار حقائق  مادہ پرست اور اسباب کے غلاموں  کےمنہ پر زوردار طمانچہ اور ان کے چہروں کے سامنے ایک  گونج دار چیخ ہیں جو ان سے پکار پکار کر کہتی ہیں، جس سختی اور حرارت پر تم نازاں  ہو وہ از خود عمل نہیں کرتی ہے  بلکہ اپنا  وظیفہ ایک ہی حکم دینے والی ذات کے حکم سے ادا کرتی ہے ، وہ ذات باریک ، لطیف اور نرم و نازک ریشوں کو اس طرح بنادیتی ہے    کہ گویا   کہ موسٰی علیہ السلام کی لاٹھی   ہے جو اپنے اللہ کے اس حکم  کی تعمیل  کرتی ہوئی چٹانوں کو شق کرتی چلی جاتی ہے

( فَقُلْنَا اضْرِبْ بِعَصَاکَ الْحَجَر)    والے امر الٰہی کو عملی جامہ پہناتی   چلی جاتی ہے۔  اور ان باریک ، لطیف اور نرم و نازک پتوں کوں اس طرح بنا دیتی ہے کہ گویا کہ وہ ابراہیم علیہ السلام کے جسم کے اؑضاء ہیں جو آگ کے شعلوں کے سامنے ( یٰنَا رُکُوْ نِیْ بَرْ دا   وَّ سَلما ) پڑھ رہے ہیں۔

تو جب کائنات کی ہر چیز روحانی طور پر ” بسم اللہ” پڑھتی ہے اور اللہ تعالٰی کی نعمتیں اللہ کے نام سے حاصل کر کے ہمیں پیش کرتی ہے ، تو ہمیں بھی چاہیے کہ ہم بھی اسی طرح  ” بسم اللہ ” یعنی اللہ کے نام کے ساتھ کہیں ، اللہ کے نام کے ساتھ دیں اور اللہ کے نام کے ساتھ لیں ۔ اور پھر ہمیں یہ بھی چاہیے کہ ہم ان غافلوں کے ہاتھوں کو پیچھے  دھکیل دیں جو اللہ کے نام پر نہیں دیتے ہیں۔

 

سوال: ہم اس آدمی کے لیے احترام  اور توقیر کا اظہار کرتے ہیں  جو ہمارے  لیے کسی ایک  نعمت کا سبب بنتا ہے، تو  آ پ کیا سمجھتے ہیں کہ ہمارا پروردگار اللہ  تعالی  جو یہ سب نعمتیں ہمیں عطا کر رہا ہے  اور ان کا حقیقی مالک ہے ، وہ ہم سے کیا مطالبہ  کرتا ہے؟

 

جواب: منعمِ حقیقی ہم سے بیش بہا   نعمتوں  کی قیمت کے طور پر تین چیزیں طلب کرتا ہے: (1) ذکر  (2) شکر (3) فکر

پس ” بسم اللہ “ ابتدا کے لحاظ سے ذکر ہے اور  ” الحمد للہ” انتہا کے لحاظ  سے ” شکر” ہے ، اور جو چیز ان دونوں کے درمیان میں  ہے وہ ” فکر” ہے، یعنی ان انوکھی نعمتوں کے بارے میں غور و فکر کرنا اور اس بات  کا ادراک کرنا کہ یہ نعمتیں اس ذات  کا معجزہ اور اس کی بے پایا ں   رحمت تحفے  ہیں جو احد اور صمد یعنی یگانہ ، یکتا اور بے نیاز ہیں ۔۔۔ بس اس سوچ کا نام ہی  ” فکر” ہے۔

تو کیا وہ آدمی جو اس سپاہی  کے قدم چومتا ہے جو ایک  خادم کی حثیت سے حکمران کی طرف سے اسے کوئی تحفہ پیش کرتا ہے ، کیا وہ آدمی بدترین حماقت اور معیوب قسم کی بیواقوفی کا مظاہرہ نہیں کرہا ہے؟ اگر ایسا ہے اور واقعتا ایسا ہی ہے  تو پھر اس آدمی کے بارے میں کیا خیال  ہے جو ان مادی اسباب کی تعریف میں مگن رہے جو بظاہر اسے نعمتیں دے رہے ہیں؟ اور انہی اسباب کو حقیقی پیار  محبت اور دلبستگی کا مرکز بنالے اور منعمِ حقیقی کو یکسر  بھول ہی جائے  ؟ کیا یہ آدمی اس سپاہی سے ہزار گنا زیادہ بواقوف نہیں ہے؟

 

پس اے جانِ من! اگر تم اس احمق اور بواقوف کی طرح نہیں ہونا چاہتے ہو تو پھر:

دو اللہ کے نام سے۔۔۔

لو اللہ کے نام سے۔۔۔

شروع کرو اللہ نام سے ۔۔۔

کام سرانجام دو اللہ نام سے۔۔۔

والسلام

 

کلیاتِ رسائل نور : مقالات، پہلا مقالہ

موالف: استاد بدیع الزمان سعید نورسی سنّی عالمِ دین ، ترکی

 

 

 

 

 

 

 

 

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button