عربمشرق وسطییمن

یمن پر سعودی اتحاد کے حملے

مھر خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق جارح سعودی عرب کے جنگی طیاروں نے صوبہ حجہ کے حرض”، “عبس” اور “میدی” کے رہائشی علاقوں پر بمباری کی ہے۔ ابھی تک ان حملوں میں ہونے والے نقصانات کی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔

جارح سعودی اتحاد کے جنگی طیاروں نے صوبہ الحدیدہ پر بھی 51 مرتبہ بمباری کی۔

جارح سعودی اتحاد نے نو اپریل کو یمن میں یکطرفہ جنگ بندی کا اعلان کیا تھا اور دعوی کیا تھا کہ کورونا کی روک تھام میں مدد کے لئے یمن کے خلاف تمام فضائی، بری اور بحری حملے بند کئے جاتے ہیں اور اگر فریق مقابل اس کا خیرمقدم کرے گا تو جنگ بندی کی مدت میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے، لیکن اس نام نہاد جنگ بندی کے اعلان کے فورا بعد ہی جارح سعودی اتحاد نے اپنی یک طرفہ جنگ بندی کو پامال کرنا شروع کر دیا۔

یمن میں سعودی اتحاد کی جارحیت ایسے حالات میں جاری ہے کہ ماہ مبارک رمضان میں یمن میں کورونا کے پھیلاو کے پیش نظر اقوام متحدہ نے یمن پر حملے روکنے اور انسانی ہمدردی کے ناطے اس ملک کی مدد کرنے کی اپیل کی تھی۔

واضح رہے کہ سعودی عرب اور اس کے بعض اتحادی ممالک، امریکا اور دیگر ملکوں کی حمایت کے زیر سایہ مارچ دوہزار پندرہ سے یمن پر وحشیانہ حملے کر رہے ہیں۔ اس عرصے میں دسیوں ہزار یمنی شہری شہید و زخمی جبکہ دسیوں لاکھ یمنی بے سر و سامانی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو ئے ہیں۔

سعودی عرب اپنے تمام تر وحشیانہ حملوں کے باوجود اپنا ایک بھی مقصد اب تک حاصل نہیں کر سکا ہے –

پچھلے چند برسوں کے دوران مکمل زمینی، سمندری اور فضائی محاصرے کے باوجود یمنی فورسز کی دفاعی طاقت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close