ایرانمشرق وسطی

امریکہ سے ایک انتقام لے چکے، ایک انتقام لینا باقی ہے، صدر ایران

بدھ کو کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر حسن روحانی کا کہنا تھا کہ شہید سلیمانی کی مظلومانہ شہادت ہو، کرمان میں بہت سے ہم وطنوں کی موت ہو یا یوکرین کے طیارہ سانحے میں درجنوں ذہین طلبہ اور دانشوروں کی شہادت، ان تمام واقعات نے پوری قوم کو آزردہ کردیا ہے۔

صدر ایران نے کہا کہ امریکی فوج کی عین الاسد چھاونی پر سپاہ پاسداران کے میزائل حملے سے شہید جنرل سلیمانی کے خون کا فوجی لحاظ سے انتقام لیا جاچکا ہے لیکن ایک اور انتقام لینا ابھی باقی ہے اور وہ یہ ہے کہ خطے کی اقوام ، امریکہ کو اس علاقے سے باہر کرنے کی کوشش کریں۔

ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا کہ یوکرینی طیارے کا سانحہ ہم سب کے لیے عظیم سانحہ ہے اور اس درد کا مداوا کیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ پوری سچائی کے ساتھ ذمہ داریوں کی ادائیگی کے ذریعے اس عظیم غم کو کسی حدتک کم کیا جاسکتا ہے۔

صدر ایران نے ایک بار پھر اس پروپیگنڈے کو سختی کے ساتھ مسترد کردیا کہ ایران ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کا ایٹمی پروگرام مکمل طور سے آئی اے ای اے کی نگرانی میں کام کر رہا ہے اور ایٹمی ہتھیار بنانے کی باتوں میں کوئی صداقت نہیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button