امام خامنہ ایایرانمثالی شخصیاتمشرق وسطی

رہبر معظم کی نظر میں اساتذہ کا تمدن ساز کردار

رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے بدھ کو ایران میں یوم معلم کی آمد کی مناسبت سے پورے ملک کے اساتذہ اور معلمین کی ایک بڑی تعداد سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کے کردار کو تمدن ساز قرار دیا –

رہبرانقلاب اسلامی نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ ایک قوم کا سب سے اہم سرمایہ انسانی سرمایہ ہوتا ہے فرمایا کہ اساتذہ اور معلمین ہی نئی تہذیب و تمدن کی بنیاد رکھتے ہیں اور وہی جہالت و ناخواندگی کا مقابلہ کرنے کے میدان کے مجاہد ہوتے ہیں اور سماج نیز اس کی نوجوان نسل کے لئے ثقافتی تشخص کی تعمیر کرتے ہیں-

آج اسلامی جمہوریہ ایران سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں پیش رفتہ ممالک میں شمار ہوتا ہے- اس میں کوئی شک نہیں کہ ملت ایران کا تابناک مستقبل بھی اس میدان میں مسلسل ترقی و پیشرفت پرمبنی ہے-

ایجنڈا دوہزار تیس پر رہبر انقلاب اسلامی کی بار بار تاکید اور اس کی بنیاد پر ایران و اسلامی ممالک سمیت دیگر ممالک کے تعلقات کے لئے اغیار کے خفیہ و آشکارا اصرار کی وجہ کا ذکر ، اس لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے –

رہبر انقلاب اسلامی نے اس سلسلے میں یاد دہانی فرمائی کہ :ایجنڈہ دوہزارتیس کی دستاویزمیں جان کلام وہ باب ہے جو تعلیم و تربیت سے مخصوص ہے اور وہ یہ ہے کہ تعلیمی نظام کو اس طرح مرتب کیا جانا چاہئے کہ بچوں اور نوجوانوں کو فلسفہ ، طرز زندگی اور مفہوم حیات مغربی اصولوں کی بنیاد پر سکھایا جائے-

رہبر انقلاب اسلامی کی نظر میں جو چیز باعث بنتی ہے کہ ہم اپنے معاشرے کے لئے مغربی ترقی کے آئیڈیل کو ناکافی سمجھیں وہ پہلے مرحلے میں یہ ہے کہ انسان کے بارے میں مغربی سماج اور مغربی فلسفے کا نظریہ اسلام کے نظریے سے بالکل مختلف ہے اور بنیادی فرق رکھتا ہے-

زمینی حقیقت یہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران ترقی و پیشرفت کے لئے ضروری خلاقیت اور استعداد و صلاحیتوں کا حامل ہے اور اس کے اندر اسلامی نطام کی سمت اور اہداف و مقاصد کے مطابق نوجوان نسل کی تربیت کے لئے لازمی آئیڈیل کا فقدان نہیں ہے-

چالیس برسوں کے تجربے سے پتہ چلتا ہے کہ عقلی صلاحیتوں ، خلاقیتوں اور دینی و ثقافتی اقدار سے نوجوان نسل کی تربیت کے لئے منصوبہ بندی کی جاسکتی ہے اور علاقائی و عالمی حالات و ضروریات کے لحاظ سے پیشرفت کا آئیڈیل تیار کر کے اس پر عمل درآمد کیا جا سکتا ہے تاہم ان تمام میدانوں میں کامیابی کی شرط دشمن کی سازشوں کے مقابلے میں ملت ایران کا متحد رہنا ہے- رہبر انقلاب اسلامی نے اس حقیقت کو بیان کرنے میں دشمن کی جنگی صف بندی اور اقتصادی و سیاسی میدانوں میں دشمن کی یلغار اور اس کے انٹیلیجنس نفوذ نیز سوشل میڈیا کے ذریعے نقصان پہنچائے جانے کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا کہ : امریکہ اور صیہونیزم ہر رخ سے سازشیں اور اقدامات کررہا ہے البتہ یہ امریکہ کی موجودہ حکومت سے ہی مختص نہیں ہے پہلے والے بھی یہی کام مخملی دستانے پہن کر کر رہے تھے لیکن امریکہ کے موجودہ صدر نے ہماری یہ مدد کی ہے کہ انھوں نے اس مخملی دستانے کو اتار دیا ہے اور اب سبھی امریکیوں کے دستانے کے نیچے چھپے ہوئے کاسٹ آئرن کو دیکھ رہے ہیں-

ٹرمپ نے اپنے احمقانہ اقدامات سے ثابت کردیا کہ ان کے اندر ماضی اور حال کے مسائل کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں ہے کیونکہ جس وقت اوباما ، رہبرانقلاب اسلامی کے بقول آہنی مکّا مخملی دستانے میں چھپائے ہوئے تھے اور تبدیلی کی بات کر رہے تھے، اس وقت بھی ایران یہ الفاظ سن کر خوش نہیں ہوا تھا اور آج بھی ٹرمپ کی گیدڑ بھپکیوں اور لفاظیوں سے ڈرنے والا نہیں ہے-

جیسا کہ رہبر انقلاب اسلامی نے تاکید فرمائی ہے ملت ایران کے خلاف دشمن کی جنگی صف بندی کے مقابلے میں قوم کو بھی صف بندی کرنا چاہئے اور تمام حکام ، قوم کا ہرطبقہ ، دانا و توانا افراد اور دانشورطبقہ جس میدان میں بھی مشغول ہے پوری ذمہ داری اور تیاری سے میدان میں آئے-

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button