ایشیاپاکستان

پاکستان: کورونا سے اراکین اسمبلی کی ہلاکتوں پر تشویش کی لہر

پاکستانی میڈیا کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے ممبر آف پروینشل اسمبلی اور سابق وزیر ایکسائز کے پی میاں جمشید الدین کاکا خیل کورونا سے انتقال کر گئے ہیں ۔

خاندانی ذرائع کے مطابق میاں جمشیدالدین کاکاخیل کا کورونا وائرس ٹیسٹ پازیٹیو آیا تھا، وہ تقریباً 15 دن سے بیمار تھے، طبیعت خراب ہونے پر میاں جمشید کاکاخیل کو اسلام آباد کے نجی اسپتال لایا گیا تھا۔ خاندانی ذرائع کے مطابق جمشید کا کا خیل کی میت نوشہرہ پہنچادی گئی ہے۔

ادھرسندھ کے وزیر برائے انسانی آبادکاری و خصوصی ترقی اور پیپلز پارٹی ضلع ملیر کے صدر غلام مرتضی بلوچ کورونا وائرس کے باعث انتقال کرگئے۔ صوبائی وزیر میں گزشتہ ماہ 12 مئی کو کورونا کی علامات ظاہر ہوئیں تو انہوں نے اپنا ٹیسٹ کروایا 14 مئی کو جس کی رپورٹ مثبت آئی۔ وائرس کی تشخیص کے بعد چند روز گھر میں آئیسولیشن میں رہے اور طبیعت کی خرابی پر انہیں نجی ہسپتال میں داخل کیا گیا۔

پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر مولا بخش چانڈیو میں بھی کورونا وائرس کی تشخیص ہوگئی ہے۔

صوبائی محکمہ صحت کے مطابق مولا بخش چانڈیو، ان کے بیٹے، اہلیہ اور دیگر دو خواتین میں بھی کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ سینیٹر مولا بخش چانڈیو کے ترجمان نجیب ابڑو کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی تشخیص کے بعد مولا بخش چانڈیو کو ان کے اہل خانہ سمیت گھر کے اندر ہی قرنطینہ کردیا گیا ہے۔

علاوہ ازیں لاڑکانہ سے منتخب ہونے والے سندھ اسمبلی کے رکن اور گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس (جی ڈی اے) کے رہنما معظم علی عباسی کے بھی کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔

جے یو آئی(ف) کے رہنما اور ضلع کرم سے رکن قومی اسمبلی منیر خان اورکزئی انتقال کر گئے۔ منیر خان اورکزئی کو رات گئے دل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا۔ منیر خان کا 24 اپریل کو کورونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا تاہم ایک ہفتہ قبل وہ صحت یاب ہوگئے تھے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close